جہالت اور توہمات کا راج برصغیر کے پسماند عوم کے دلوں پر جتنا مضبوط ہے شاید ہی کہیں اور ہو اور بھارت میں تو اس کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے۔ اس ملک کے جنوب میں واقع شہر حیدر آباد میں ہر سال جون کے مہینہ میں ہزاروں لوگ زندہ مچھلیوں کو نگل کر دمے سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں آباد ایک خاندان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ایک ہندو بزرگ نے انہیں ایک ایسا نسخہ عطا کردیا تھا کہ جو زندہ مچھلی کے پیٹ میں ڈال کر نگلا جائے تو دمہ کا مرض ختم ہوجاتا ہے۔ اس بات کو ماننے والے جاہل لوگ ہزاروں کی تعداد میں بسوں اور ریل گاڑیوں پر سوار ہوکر جون کے مہینے میں حیدر آباد کا رُخ کرتے ہیں۔ دو دن جاری رہنے والے اس کیمپ میں سارڈین یا مرل قسم کی ایک چھوٹی مچھلی کے پیٹ میں ایک زرد رنگ کی دوا ڈال کر یہ مچھلی زندگہ حالت میں ہی مریضوں کے گلے میں گھسیڑ دی جاتی ہے جو کسی نہ کسی طرح اسے نگل لیتے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ زرد دوا کیا چیز ہے کیونکہ یہ طریقہ علاج ایجاد کرنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا راز ہے۔ ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے اس طریقہ علاج کو مکمل طور پر بے بنیاد اور خطرناک قرار دیا ہے لیکن یہاں آنے والے لوگ ان باتوں کو نظر انداز کرکے یہ علاج جاری رکھتے ہیں اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومتی ادارے لوگوں کو یہاں پہنچانے کیلئے خصوصی ریل گاڑیاں چلاتے ہیں اور دیگر انتظامات بھی کرتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں